دست قدرت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - طاقت، قابلیت؛ اختیار، قابو۔ "ہندوستان جنت نشان کی زمام فرماں روائی حضرت ابوالفتح نصیرالدین محمد شاہ بادشاہ فردوس آرمگاہ کے دستِ قدرت میں تھی۔"      ( ١٩٠٦ء، حیاتِ ماہ لقا، ٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دست' کے بعد کسرۂ اضافت لگا کر عربی زبان سے مشتق اسم 'قدرت' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٤١ء کو "دیوان شاکر ناجی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طاقت، قابلیت؛ اختیار، قابو۔ "ہندوستان جنت نشان کی زمام فرماں روائی حضرت ابوالفتح نصیرالدین محمد شاہ بادشاہ فردوس آرمگاہ کے دستِ قدرت میں تھی۔"      ( ١٩٠٦ء، حیاتِ ماہ لقا، ٣ )

جنس: مذکر